تجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ہوں میں
تیرے معصوم سوالوں سے پریشاں ہوں میں

جینے کے لیے سوچا ہی نہیں، درد سنبھالنے ہوں گے
مسکرائیں تو مسکرانے کے قرض اتارنے ہوں گے

مسکراؤں کبھی تو لگتا ہے
جیسے ہونٹوں پہ قرض رکھا ہے

آج اگر بھر آئی ہے بوندیں، برس جائیں گی
کل کیا پتا ان کے لیے آنکھیں ترس جائیں گی

جانے کب گم ہوا کہاں کھویا ایک آنسو چھپا کے رکھا تھا
تجھ سے ناراض نہیں زندگی…….

گلزار

--

--

سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے
تو وہ حملہ نہیں‌ کرتا

سنا ہے جب
کسی ندی کے پانی میں

بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں‌ اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں

ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں‌
تو مینا اپنے گھر کو بھول کر

کوے کے انڈوں کو پروں‌ سے تھام لیتی ہے
سنا ہے گھونسلے سے جب کوئی بچہ گر ے تو

سارا جنگل جاگ جاتا ہے
ندی میں باڑ آجائے

کوئی پُل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر

گلہری ، سانپ ، چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

خداوندِ جلیل و معتبر ، دانا و بینا منصف و اکبر
ہمارے شہر میں اب جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر !!

زہرہ نگاہ

--

--

یہ کیا کہ خاک ہوئے ہم جہاں وہیں کے نہیں
جو ہم یہاں کے نہیں ہیں تو پِھر کہیں کے نہیں

وفا سرشت میں ہوتی تو سامنے آتی
وہ کیا فلک سے نبھائیں گے جو زمیں کے نہیں

ہوا کی گرم خرامی سے پڑ رہے ہیں بھنور
یہ پیچ و تاب کسی موجِ تِہ نشیں کے نہیں

سُنا گیا ہے کہ اکثر قیام و ذکر و سجُود
ہیں جس کے نام اُسی جانِ آفریں کے نہیں

تمام عمر پِھرے دربدر، کہ گھر ہو جائے
گھروں میں رہنا بھی تقدیر میں اُنہیں کے نہیں

بِکھر رہے ہیں جو آنسُو بغیر منّتِ دوست
وہ دامنوں کی امانت ہیں آستیں کے نہیں

افتخار عارف

--

--

کبھی ہم بھی خوبصورت تھے
کتابوں میں بسی خوشبو کی صورت
سانس ساکن تھی!

بہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
دور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سناتے تھے

جو ہم سے دور تھے
لیکن ہمارے پاس رہتے تھے !

نئے دن کی مسافت
جب کرن کے ساتھ آنگن میں اترتی تھی
تو ہم کہتے تھے۔۔۔ ۔۔امی!

تتلیوں کے پر بہت ہی خوبصورت ہیں
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
کہ ہم کو تتلیوں کے‘ جگنوؤں کے دیس جانا ہے

ہمیں رنگوں کے جگنو‘ روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دن کی مسافت رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ

کھڑکی سے بلاتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو

احمد شمیم

--

--

جس روز ہمارا کوچ ہو گا
پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی

شیریں سخنوں کے حرفِ دُشنام
بے مہر زبانیں بند ہوں گی

پلکوں پہ نمی کا ذکر ہی کیا
یادوں کا سراغ تک نہ ہو گا

ہمواری ِ ہر نفس سلامت
دل پر کوئی داغ تک نہ ہو گا

پامالیِ خواب کی کہانی
کہنے کو چراغ تک نہ ہو گا

معبود ! اس آخری سفر میں
تنہائی کو سرخ رو ہی رکھنا

جز تیرے نہیں کوئی نگہدار
اس دن بھی خیال تو ہی رکھنا

جس آنکھ نے عمر بھر رلایا
اس آنکھ کو بے وضو ہی رکھنا

جس روز ہمارا کو چ ہو گا
پھو لوں کی دکانیں بند ہوں گی

افتخار عارف

--

--

کچھ دل سے کسی نے کہہ دیا پھر
وحشت کا چلے گا سِلسلہ پھر

پھولوں پہ دھنک کی بارشیں ہیں
خوشبو سے ہُوا ہے رابطہ پھر

بے نام رفاقتوں کا موسم
زخموں کے چمن کھِلا گیا پھر

خوابوں سے ڈری ہوئی تھیں آنکھیں
ڈرڈر کے کیا ہے حوصلہ پھر

آنکھیں تھیں اُداس مُسکرا دیں
پیاسا تھا بدن چھلک پڑا پھر

پتھراؤ سے کب تلک بچیں گے
پھر ٹوٹ گیا جو آئینہ پھر

پھر شہر کے سارے داستاں گو
دُہرائیں گے ایک واقعہ پھر

افتخارعارف

--

--

​تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارضِ وطن
​جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کرے ​

کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہو گا​
کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں ​

تیرے ایوانوں میں پرزے ہوے پیماں کتنے​
کتنے وعدے جو نہ آسودۂ اقرار ہوے ​

کتنی آنکھوں کو نظر کھا گئی بدخواہوں کی​
خواب کتنے تری شاہراہوں میں سنگسار ہوے​

“بلاکشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہوا​
جو مجھ پہ گزری مت اس سے کہو، ہوا سو ہوا​

مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر​
لہو کے داغ تو دامن سے دھو، ہوا سو ہوا”

ہم تو مجبورِ وفا ہیں مگر اے جانِ جہاں​
اپنے عشّاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے​

تیری محفل کو خدا رکھے ابد تک قائم​
ہم تو مہماں ہیں گھڑی بھر کے، ہمارا کیا ہے

فیض احمد فیض

--

--

باتیں ادیبوں کی

باتیں ادیبوں کی

17 Followers

اردو شاعری جنوبی ایشیا کی تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے۔ میر، غالب، انیس، داغ، دبیر، اقبال، ذوق، جوش، اکبر، جگر، فیض، فراق،اردو شاعری کے سب سے بڑے شعرا میں سے ہیں۔